تاریخ

سال ۱۹۹۷ میں پاکیستان کی تاریخ میں اصلاحات نافذ کی گئیں جس کے نتجہ میں ایک جدید اور ہنر مند پولیس کا قیام لایا گیا جس کا مقصد موٹر وے ایم ٹو پر ٹریفک مینجمنٹ تھا۔ اس طرح کی سابقہ کوششوں کی ناکامی کی وجہ سے ناقدین ، حامیوں سے زیادہ تھے۔ حتی کہ پیشہ ور پولیس افسران کی بھی یہی خیال تھا کہ پولیس کے موجودہ کام کو بہتر کرنا نامکن ہے۔ 4th selected for card by IGP

.

ابھرتی ہوئی یہ فورس پولیس کلچر میں ایک خوشگوار تبدیلی تھی۔ جس سے اسکو عوام میں اک خاطر خواہ پزیرائی حاصل ہوئی۔ شروع میں اس پولیس کے پاس کوئی بھرتی نہ تھی اور  مختلف صوبوں سے پولیس سے بندے لئے گئے۔ اور ان کو سخت تربیت دی گئ۔ اور عوامی خدمت کے لئے تما م کوششوں کو بروئے کار لایا گیا۔ اور اخر کا اس منصوبے کا نتیجہ انتہائی حیران کن تھا۔ ان ان افسران میں تبدیلی دیکھی گئ کہ وہی افسران نیک ، ایمانتدار اور موئثر بن گئے جو کہ پہلے کیس غلط کام میں ملوث تھے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے مناسب ماحول کی  موجودگی، تربیت، مکمل رہنمائی اور بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی سے اس طرح کا معجرہ ممکن ہے۔

.

گورنمنٹ نے موٹروے پولیس کی اعلٰی کارکردگی کی بنیاد پر ، اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا جس کو شروع میں پشاور سے کراچی (این۔۵)تک پھلایا گیا۔  اس طرح محکمہ کا نام تبدیل کرکے نیشنل ھائی ویز اینڈ موٹروے پولیس رکھا گیا۔

4th selected for card by IGP

یہ فیصلہ ایک د فعہ پھر تنقید اور قدامت پسند بیانات کا نشانہ بنا۔ناقدین نے این ۵ پر پولیسنگ کو ناکام کرار دیا۔ شاہراہوں پر ٹریفک کی پیچدگی، ڈرائیور حضرات کے اطوار اور پیدل چلنے والوں کے رویےکی وجہ سے۔  ان کے تحفٖظات منطقی تھے۔ یہ کا م ایک دفعہ پھر انتہائی مشکل تھا کیوں کہ محکمہ کا کمایا ہو نا م، اس کا معیار اور وقار خطرےمیں تھا۔ اس ادارے نے ۲۰۰۱ میں N-5پر پولیسنگ شروع کی اور تما م خطرات کے باوجود یہاں بھی کامیابی ملی اس کامیابی کے بعد گورنمنٹ نے مزید وفاقی روڈ محکمہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔

آج اللہ کے فضل و کرم سے NH&MPوہ واحد ادارہ بن گیا ہے جس کی تعریف ہر طبقہ فکرنے کی  اس ادارہ نے عوام کی حمایت اور اعتماد حاصل کیا۔ اور یقینا  پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہو کہ ایک پولیس کی ایمانتداری سالمیت اور رویے کی وجہ سے تعریف کی جارہی ہے۔
Slide-3
 نیب کی اپنی رپورٹ ۲۰۰۲ میں محکمہ کو پاکستان کا واحد کرپشن فری ادارہ قرار دیا گیا۔ حتی کہ اس وقت کے وزیراعظم نے اس کو The island of excellenceقرار دیا۔ Transparency International  نے بھی اس ادارے کو کرپشن فری اداروں کی صف میں رکھا۔

اب لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس محکمہ کو رول ماڈل کا درجہ دیا جائے۔ اور اس کے اپنائے ہوئے طریقہ کار کو  دوسروں محکموں پر بھی رائج کیا جائے۔