ہمارے بارے میں

NH&MP نے جون ۲۰۰۱ میں اپنی پولیسنگ این ۔۵(N-5) پر شروع کی ۔ باوجود تما م خطرات کے اس نے یہاں بھی کامیابی حاصل کی ۔ اس کی کامیابی کی وجہ سے گورنمنٹ نے تمام شاہراہیں محکمہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اب ۲۶۹۶کلومیٹر کا ایریا پر NH&MP پولیسنگ کر رہی ہے ۔
اللہ کے فضل و کرم سے NH&MPوہ ادارہ بن گیا ہے۔ جس کی کارکردگی کو ہر طبقہ فکر نے سراہا۔ اس ادارہ نے عوام کا اعتماد حاصل کیا اور یقینا پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہو کہ ایک پولیس کی ایمانتداری سالمیت اور رویے کی وجہ سے تعریف کی جارہی ہے۔
نیب کی اپنی رپورٹ ۲۰۰۲ میں محکمہ کو پاکستان کا واحد کرپشن فری ادارہ قرار دیا گیا۔ حتی کہ اس وقت کے وزیراعظم نے اس کو The island of excellenceقرار دیا۔ Transparency International نے بھی اس ادارے کو کرپشن فری اداروں کی صف میں رکھا۔
اب لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس محکمہ کو رول ماڈل کا درجہ دیا جائے۔ اور اس کے اپنائے ہوئے طریقہ کار کو دوسروں محکموں پر بھی رائج کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سن ۱۹۹۷ میں پاکیستان کی تاریخ میں اصلاحات نافذ کی گئیں جس کے نتجہ میں ایک جدید اور ہنر مند پولیس کا قیام لایا گیا جس کا مقصد موٹر وے ایم ٹو پر ٹریفک مینجمنٹ تھا۔ اس طرح کی سابقہ کوششوں کی ناکامی کی وجہ سے ناقدین ، حامیوں سے زیادہ تھے۔ حتی کہ پیشہ ور پولیس افسران کی بھی یہی خیال تھا کہ پولیس کے موجودہ کام کو بہتر کرنا نامکن ہے۔
.
ابھرتی ہوئی یہ فورس پولیس کلچر میں ایک خوشگوار تبدیلی تھی۔ جس سے اسکو عوام میں اک خاطر خواہ پزیرائی حاصل ہوئی۔ شروع میں اس پولیس کے پاس کوئی بھرتی نہ تھی اور مختلف صوبوں سے پولیس سے بندے لئے گئے۔ اور ان کو سخت تربیت دی گئ۔ اور عوامی خدمت کے لئے تما م کوششوں کو بروئے کار لایا گیا۔ اور اخر کا اس منصوبے کا نتیجہ انتہائی حیران کن تھا۔ ان ان افسران میں تبدیلی دیکھی گئ کہ وہی افسران نیک ، ایمانتدار اور موئثر بن گئے جو کہ پہلے کیس غلط کام میں ملوث تھے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے مناسب ماحول کی موجودگی، تربیت، مکمل رہنمائی اور بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی سے اس طرح کا معجرہ ممکن ہے۔
.
گورنمنٹ نے موٹروے پولیس کی اعلٰی کارکردگی کی بنیاد پر ، اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا جس کو شروع میں پشاور سے کراچی (این۔۵)تک پھلایا گیا۔ اس طرح محکمہ کا نام تبدیل کرکے نیشنل ھائی ویز اینڈ موٹروے پولیس رکھا گیا۔ یہ فیصلہ ایک د فعہ پھر تنقید اور قدامت پسند بیانات کا نشانہ بنا۔ناقدین نے این ۵ پر پولیسنگ کو ناکام کرار دیا۔ شاہراہوں پر ٹریفک کی پیچدگی، ڈرائیور حضرات کے اطوار اور پیدل چلنے والوں کے رویےکی وجہ سے۔ ان کے تحفٖظات منطقی تھے۔ یہ کا م ایک دفعہ پھر انتہائی مشکل تھا کیوں کہ محکمہ کا کمایا ہو نا م، اس کا معیار اور وقار خطرےمیں تھا۔
آج، اللہ، NH & MP کے فضل سے جن کی کارکردگی کو زندگی کے تمام شعبہ ہائے کے لوگوں کی طرف سے تعریف کیا جا رہا ہے واحد ادارہ ہے. بہت شروع سے، NH & MP حمایت اور عام عوام کا اعتماد حاصل کی ہے. شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کے لئے، ایک پولیس فورس کو اس کی ایمانداری، سالمیت، رویے، مدد اور سرکاریservice.Slide-3 کے لئے تعریف کی جا رہی ہے

سال 2002 کے لئے قومی احتساب بیورو (نیب) رپورٹ میں، NH & MP ملک میں صرف کرپشن سے پاک محکمہ ہونے کی اطلاع نہیں ملی. پاکستان جناب شوکت عزیز کے اس وقت کے وزیر اعظم بھی “ایکسی لینس کا جزیرہ” کے طور پر اس فورس کا اعلان کر دیا. ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا کی کرپشن سے پاک محکموں کے درمیانNH & MP شامل کیا ہے.

اب لوگ اس محکمہ کو ایک ماڈل کے طور پر اعلان کیا جا سکتا ہے اور اس کے استعمال کو بھی دوسرے محکموں کو بھی اپنایا جا سکتا ہے کہ مطالبہ کر رہے ہیں. ابتدائی طور پر، تجربہ پہلے ہیNH & MP کی طرف سے تربیت دیا گیا ہے جو اسلام آباد ماڈل سٹی ٹریفک پولیس اور پنجاب ٹریفک وارڈن، کی شکل میں نقل کیا گیا ہے.